ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / طلاق ثلاثہ پرآج تک سدارامیا اوران کے وزراء نے رائے کیوں نہیں دی؟

طلاق ثلاثہ پرآج تک سدارامیا اوران کے وزراء نے رائے کیوں نہیں دی؟

Thu, 04 Jan 2018 11:37:30    S.O. News Service

بنگلورو،3؍جنوری (ایس او نیوز) مجوزہ طلاق ثلاثہ بل پربی جے پی حکومت نے تمام ریاستوں کو اپنی رائے دینے کو کہاتھا جس میں سے 18ریاستوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا لیکن ریاست کرناٹک کی حکومت نے آج تک اپنی رائے سے مرکز کو آگاہ نہیں کیا۔آخر اس کی وجہ کیاہے؟۔11دسمبرکو مرکزی حکومت کا مکتوب مل چکا تھا۔اقلیتی وزیر کو 18دسمبرکو ملا پھر بھی آج تک اس پر غور وخوض نہیں کیا گیا۔ مسلمانوں کی ہمدر دکہی جانی والی حکومت اور ان کے وزراء مسلمانوں کے حساس مسئلہ پر اتنی کاہلی کیوں برت رہے ہیں۔ مسودہ قانون کو مرکز نے ریاستوں کی رائے حاصل کرنے کیلئے یکم دسمبر کو روانہ کیا تھا ۔ ریاستوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ مجوزہ بل پر فوری اپنی رائے ظاہر کریں۔ مرکز کی مہلت کے دوران بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں نے اپنا جواب فوری روانہ کیا لیکن دیگر پارٹی زیر اقتدار ریاستوں میں کچھ نے بہت تاخیر سے جواب دیا اور کچھ نے آج تک کوئی رائے ظاہر ہی نہیں کی ہے ،ان میں سے ایک ریاست کرناٹک بھی ہے۔مسلمانوں کی رائے اور ان کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے مرکز کو طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت میں ریاست کے وزراء جواب دے سکتے تھے۔وزیر اعلیٰ سدارامیا کی حکومت جو اقلیتوں سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہے اس کی جانب سے مرکز کو کوئی جواب روانہ کرنے سے گریز کرنا باعث حیرت ہے۔ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے بعدنماز جمعہ علماء و دانشوران کی میٹنگ منعقد کی گئی ہے۔جس میں علماء طلاق ثلاثہ پر اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔سوال یہ اٹھتاہے کہ مسلمانوں کے اہم مسئلہ سے متعلق جواب دینے پر حکومت نے اتنی سستی کیوں برتی؟۔


Share: